منگل 7 اپریل 2026 - 19:42
نمائند ولی فقیہ ہند: آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت آفاقی ہوچکی ہے

حوزہ/ آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کی یاد میں بڑے امام باڑے لکھنؤ میں تاریخی جلسہ ’یاد شہداء‘ منعقد،مختلف مذہبوں اور مسلکوں کے علماءاور دانشوروں نے شرکت کی جسمیں مولانا کلب جواد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جنگ ہارچکاہے اس لئے فحش کلامی کر رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ رہبر انقلاب اسلامی ،شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ اور تمام شہدائے مقاومت کی یاد میں لکھنؤ کے تاریخی آصفی امامباڑے میں ایک جلسہ بعنوان ’یاد شہداء‘ منعقد ہواجس میں نمائندہ ولی فقیہ ہند حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے خصوصی شرکت کی ۔جلسے میں بلاتفریق مذہب و مسلک علماءاور دانشورحضرات تشریف لائے ۔بڑا امام باڑہ آیۃ اللہ خامنہ ای ؒ کے عقیدت مندوں سے چھلک رہاتھاجس میں سبھی مسلکوں کے لوگ شامل تھے ۔جلسے میں شامل تمام مقررین نے ایران سے یکجہتی کا اظہار کیااور امریکی اوراسرائیلی حملوں کی مذمت کی ۔جلسے میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مردہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے ۔جلسے میں مناب کی شہید معصوم بچیوں ،غزہ کے شہید بچوں اور شہید صحافیوں کی یاد میں نمائش بھی لگائی گئی تھی ۔آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی یاد میں خون کے عطیہ کے لئے کیمپ لگاتھاجس میں بلاتفریق عوام نے حصہ لیا۔یہ جلسہ مومنین لکھنؤ ،انجمن ہائی ماتمی اور علمائے کرام کی طرف سے مجلس علمائے ہند کے زیر انتظام منعقد ہوا۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

لکھنؤ میں آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کی یاد میں بڑے امام باڑے میں تاریخی جلسہ ’یاد شہداء‘ کا انعقاد

جلسے کا آغاز قاری حجۃ الاسلام و المسلمین ضیائی نیا نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔ان کے بعد باقاعدہ جلسے کا آغاز ہوا۔مولانا اشتیاق احمد انصاری نے اپنی تقریر میں اسرائیلی و امریکی حملے میں شہید ہونےوالی مناب کےاسکول کی بچیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ معصوم بچوں کا گوشت کھاتے ہیں وہ کبھی معصوم بچوں پر رحم نہیں کھاسکتے ۔انہوں نے کہاکہ یہ جنگ شیعہ و سنّی کی نہیں بلکہ حق و باطل کی جنگ ہے ۔

مفتی نورالعین مصباحی بہرائچی نے کہاکہ ہم آیۃ اللہ خامنہ ای ؒ کے عزم اور بصیرت کوسلام کرتے ہیں ۔انہوں نےاپنی شہادت دے کر ظالموں اور دہشت گردوںکو بے نقاب کردیا۔سکھ سماج کے نمائند ے جناب پرتی پال سنگھ سلوجانے اپنی تقریر میں کہاکہ ایران نے ہمیشہ ہندوستان کی حمایت کی اور ہمیں رعایت پر تیل اور گیس دیتاتھا،لیکن ہماری حکومت نے امریکہ سے تیل لیناشروع کردیااور ہم پر اضافی ٹیرف بھی عائد کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم ٹرمپ اور نتن یاہو کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرسکتے ۔انہوں نے آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت اورعزم کو سلام پیش کیا۔

مجلس اتحاد المسلمین کے ترجمان عاصم وقار نے کہاکہ مسلمانوں میں قوت عمل اورقوت فکر ختم ہوچکی ہے اس لئے ہم زوال کا شکارہیں ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایجنسیاں یہ پروپیگنڈہ کررہی ہیں کہ ایران شیعہ ملک ہے جو سنّی ملکوں پر حملہ کررہاہے لیکن یاد رہے یہ جنگ شیعہ وسنّی کی نہیں بلکہ حق وباطل کا معرکہ ہے ۔اس وقت یہ مسلمان ملک کہاں تھے جب ان کے اتحادی غزہ اور فلسطین پر حملہ کررہے تھے ؟انہوں نے کہاکہ ایران کسی ملک کا دشمن نہیں بلکہ ظالم حکمرانوں کا دشمن ہے ،آل مرحب کادشمن ہے ۔

سوامی سارنگ نے اپنی تقریر میں ایران کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ایران کی قوم کربلا کی قوم اسے شکست نہیں دی جاسکتی ۔

رامانند فائونڈیشن کے صدر مہاراج آنند نرائن نے کہاکہ ایران اپنے دفاع کی جنگ لڑرہاہے ۔ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیابلکہ اس پر حملہ کیاگیاہے ،لہذا ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔انہوں نے آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کو سلام پیش کرتے ہوئے لکھنؤ کے عوام کے جذبے کو بھی سراہا۔کانپور سے تشریف لائے دھنی رام بودھ نے پینتھر دلت سماج کی طرف سے آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایران نے دنیا کو یہ بتادیاکہ نہ ہم ظلم کرتے ہیں اور نہ ظلم برداشت کرتے ہیں۔پاسٹر سنجے آلائن نے بھی ایران سے یکجہتی کا اظہارکیااور ٹرمپ کے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ۔انہوں نے کہاکہ ہم ایران پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہیں اور ایران کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں ۔حاجی سلیس انصاری نے کہاکہ ایران کو ظالم طاقتیں شکست نہیں دے سکتیں کیونکہ ایران حق کی لڑائی لڑرہاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ وقت تمام تر اختلافات کو بھلادینے کاہے ۔جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے کامیاب نہیں ہوسکتے ۔

مولانا جہاں گیر عالم قاسمی نے کہاکہ ہمیں متحد ہوکر ظالموں کا مقابلہ کرناچاہیے ۔انہوں نے کہا اگر مسلمان لڑتےرہے تو دشمن ان پر حاوی ہوتے جائیں گے ۔کانگریس کے ریاستی صدر اجئے رائے نے کہاکہ ہم آج ایک بہادر شخصیت کو خراج عقیدت دینے کے لئے جمع ہوئے ہیں جنہیں پوری دنیا ان کی بہادری کے لئے یاد کررہی ہے ۔جس نےعالمی طاقتوں کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھا۔انہوں نے کہاکہ بھارت سب کا ہے اور ایسے بہادر وں کو سلام کرتاہے ۔سابق آئی اے ایس افسر انیس انصاری نے کہاکہہ ہندوستان کے سارے عوام اور سیاسی جماعتیں ایران کے ساتھ کھڑی ہیں ،سوائے چندلوگوں کے جو یرقانی تنظیموں سے وابستہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے جتنے لوگ ایران کی حمایت کررہے ہیں وہ سب مسلمان نہیں ہیں مگر وہ حق کی حمایت کررہے ہیں ۔

لکھنؤ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر رمیش دکشت نے کہاکہ ہم آیۃ اللہ خامنہ ای ؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور تمام ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جوانسانیت کے لئے قربان ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم ایران کی قیادت اور ان کے عوام کے حوصلے اور جذبے کو سلام کرتے ہیں جس طرح انہوں نےظالم اور سوپرطاقتوں کا مقابلہ کیاہے ۔یہ انصاف اور حق کی لڑائی ہے جس کی حمایت کرنی چاہیے۔

مولانا بابر اشرف کچھوچھوی نے اپنی تقریر میں کہاکہ حسینی کبھی یزیدی طاقت سے نہیں ڈرتے ۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں جہاں بھی نسل کشی ہوئی اس میں امریکہ جیسی طاقتوں کا ہاتھ رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ جب تک مسلمان محبت اہلبیت ؑ پر متحد نہیں ہوں گے تب تک انہیں کامیابی نہیں ملے گی ۔معروف سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ کچھ سالوں میں ہزاروں بے گناہوں کا قتل عام کیاجس پر دنیا خاموش رہی ۔انہوں نے کہاکہ ایران میں تعلیم کا فیصد سب سے زیادہ ہے وہاں کوئی ایسابچہ نہیں جو اسکول نہ جاتاہو،لہذا ہمیں ایران کی طاقت کو صحیح طورپر سمجھناہوگا۔جس قوم کے پاس مضبوط قیادت اور شجاع عوام ہواس کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی نے تقریر کرتے ہوئے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ ایران نے ظالموں کی بیعت کو قبول نہیں کیااس لئے اس پر حملے کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عرب ملک امریکہ اور اسرائیل کے غلام ہیں ۔محمد بن سلمان کی موجودگی میں امریکی صدر ٹرمپ نے کئی بار اس کو ذلیل کیااور فحش کلامی تک کی مگر محمد بن سلمان نے کوئی ردعمل نہیں دیااس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کی غلامی کا عالم کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ خادم حرمین شریفین نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے خادم ہیں ۔مولانانے کہاکہ ٹرمپ کا فحش لہجہ بتلارہاہے کہ وہ جنگ ہارچکاہے ۔فاتح کبھی گالیاں نہیں بکتامگر شکست خوردہ گالیاں بکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ آج کا نمرود ہے ۔جو حشر کل کے نمرود کا ہواتھاوہی آج کے نمرود کا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کشمیر اور دیگر علاقوں میں جن نوجوانوں کو رہبر انقلاب کی حمایت کے جرم میں گرفتارکیا گیاہے انہیں فورا رہاکیاجائے ۔مولانانے کہاکہ اگر بلاتفریق مذہب و مسلک ہندوستان کے عوام ایران کی حمایت نہ کرتے تو تیل اور گیس کی سپلائی بند ہوجاتی ۔آبنائے ہرمز سے اگر ہندوستانی جہاز گذررہے ہیں اس میں حکومت کا کردار نہیں بلکہ عوام کی حمایت کی بناپر ہے ۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ ہندوستان میں ہندومسلم کے درمیان نفرت پھیلارہے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے کیونکہ ان کے گھروں کےچولہے بھی مسلمان ملکوں کی بناپر جل رہے ہیں ۔مولانانے مزید کہاکہ ہندوستان کا ہندو اور مسلمان اب منافرت پھیلانے والوں کے عزائم کو سمجھ چکاہے اس لئے ایران کے ساتھ جنگ کے موقع پر بلاتفریق عوام نے ایران کی حمایت کی ۔مولانانے رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر حکومت کی طرف سےتعزیتی پیغام جاری نہ ہونے کی بھی مذمت کی ۔

آخر میں مجلس کو خطاب کرتے ہوئے نمائندہ ولی فقیہ ہند حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے کہاکہ اس جلسے میں مختلف مذہبوں اور مسلکوں کے لوگ موجود ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہندوستان کے عوام ایران کے ساتھ ہیں۔انہوں نے ایران کی حمایت پر تمام ہندوستان کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ لکھنؤ مرکز علم و تہذیب کا گہوارہ رہاہے اور آج بھی ہے ۔اس شہر کی عظیم اور تابندہ تاریخ ہے ۔اس شہر میں کئی تاریخی اورعلمی کام انجام پائے ۔انہوں نے کہاکہ رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کے بعد جس طرح لکھنؤ کے عوام نے بلاتفریق ایران سے یکجہتی اور حمایت کا اعلان کیاوہ بے مثال تھاجس کے لئے میں آپ کے شہر کے لوگوں کا شکریہ اداکرتاہوں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ آیت اللہ خامنہ ای ؒاپنے افکار کی بنیاد پر زمان ومکان کی قید سے آزادہوچکے ہیں ۔ان کی شخصیت اب آفاقی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو بقائے ابد حاصل کرناہے تو اس کو چاہیے اس سے ملحق ہوجائے جو زمان و مکان میں مقید نہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ آیۃ اللہ خامنہ ای ایک بہترین شاعر اور مایۂ ناز عالم تھے مگر انہوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ آیۃ اللہ خامنہ ای کی پوری زندگی انسانیت کی فلاح وبہبود میں گزری ۔انہوں نے کبھی دنیا کے مظلوموں کوتنہا نہیں چھوڑا۔انہوں نے مزیدکہاکہ آیۃ اللہ خامنہ ای نے سادہ زندگی بسر کی ۔ان کا لباس ،غذاحتیٰ کہ پورارہن سہن معمولی ہوتاتھا۔انہیں صفات کے حامل ان کے فرزند آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ہیں ۔انہوں نے آخر میں کہاکہ جنگ جتنی بڑھتی جارہی ہے ایران کی طاقت مزید دنیا کے سامنے آرہی ہے ۔انہوں نے کربلا کے میدان میں امام حسینؑ کی شہادت کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے تقریر کو ختم کیا۔تقریر کے بعد انہوں نے دنیا میں امن اور استحکام کے لئے دعابھی کروائی۔ تقریر کا ترجمہ مولانا تقی حیدر نقوی نے کیا ۔

جلسے میں ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا فضل منان رحمانی ،مولانا زین الحیدر علوی کاکوروی ،سماج وادی پارٹی کے رکن محمد عباد ،سری نگر کشمیر سے تشریف لائے مولانا مقبول حسین جو نے بھی جلسے کو خطاب کیا۔مولاناصابر علی عمرانی اور دیویٰ شریف کی مسجد کے امام مولانااعظم علی وارثی نے منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔جلسے میں موجود تمام مقررین نے امریکہ اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور ایران کی حمایت کااعلان کیا۔جلسے میں بڑی تعداد میں علماءاور دانشوران موجودرہے ،خاص طورپرجناب ڈاکٹر یعسوب عباس ،مولانا سیف عباس ،مولانا اختر عباس جون،مولانا محمد میاں عابدی،مولانا علی عباس خان ،مولانا رضا امام،جناب سریندر پال سنگھ سکھ گردواراکمیٹی کے رکن ،پیرزادہ شیخ ناصر علی مینائی ،مولاناحسنین وارثی الہ آباد،سردار سریندر سنگھ بپّی،مولانا تنویر عباس،مولاناحامد حسین کانپور،مولانا علمدار حسین کانپور ،مولانااظہر عباس کانپورو،مولاناانوار کانپور،مولانا شباب حیدر سرسی ،مولانا ثقلین باقری ،مولانامرزاجعفر عباس ،مولانامرزا رضا عباس ،مولانا رضاحسین ،مولانا نثار احمد زین پوری،مولاناعالم مہدی زید پوری،مولاناتسنیم مہدی ،مولانا انوار حسین اٹاوہ،مولانا ممتاز جعفر،مولانا فیروز علی بنارسی ،مولانا علی مہذب خرد،مولانا قمرالحسن ،مولانا سراج حسین ،ڈاکٹر ارشد جعفری،مولانا افتخار انقلابی،مولانا حیدر عباس رضوی،مولانا سعیدالحسن ،مولانامکاتیب علی خان ،مولانا علی ہاشم عابدی،مولانامشاہد عالم ،مولانا شمس الحسن ،مولاناتہذیب الحسن ،مولانامحمد علی ،مولاناشاہنواز حیدر،مولانامحمد موسیٰ ،مولاناغلام رضا ،ڈاکٹر حیدر مہدی،مولانا موسی رضا،مولانافیض عباس،مولانا اعجاز حیدر،ڈاکٹر کلب سبطین نوری،مولانا احتشام الحسن اور دیگر علماء،افاضل ،طلاب و طالبات مدارس اور شہر کی معزز شخصیات شامل تھیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha